بھارت میں ایک بار پھر نبی آخرالزمان محمدﷺ کا خاکہ شائع ہونے اور قرآن کریم کی توہین کے واقعات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مولانا امیر حمزہ نے کہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ سب سے بڑا گستاخ ہے۔ اس کا علاج صرف جہاد سے ہو گا۔ بھارت پسندیدہ نہیں بلکہ ناپاک ترین ملک ہے۔ حکمران اپنا قبلہ درست کریں۔ عوام جہاد کی تیاری کر کے انتقام کے لئے میدان میں آئیں بھارتی کافر حکومتی سرپرستی میں بار بار اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ قرآن کی توہین کر رہے ہیں۔ ظلم کی بات یہ ہے کہ وہ ان توہین آمیزیوں کو درسی کتابوں میں(باقی صفحہ 3بقیہ نمبر56)
شائع کرتے ہی۔ یوں ہندوستان کے گستاخ ہندو وہ جرم کر رہے ہیں جس کی یورپ کو بھی جرا ¿ت نہیں.... کنونیئر تحریک حرمت رسولﷺ مولانا امیر حمزہ نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ ہفتے اپنے خطابات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا یورپ کے ملکوں نے بھی گستاخیاں تو کیں مگر درسی کتب میں نہیں کہیں۔ اس لئے کہ درسی کتب میں گستاخی حکومت کی پالیسی بن جاتی ہے۔ انہوں نے انتہائی افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے خلاف اٹھنے کی بجائے اور انڈیا سے بائیکاٹ کی بجائے اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کی غیرت کو جگاتے ہوئے زور دے کر کہا کہ وقت آ گیا ہے جس طرح امریکہ اور ناٹو کے خلاف حکمران کافی حد تک کھڑے ہو گئے ہیں اس سے کہیں بڑھ کر انڈیا کی مذموم حرکتوں کے خلاف کھڑے ہوں۔ پوری دنیا میں خاص طور پر مسلم ملکوں میں پاکستان کے سفیر اپنا کردار ادا کریں اور انڈیا کی گستاخانہ حرکتوں سے مسلمان حکمرانوں اور عوام کو آگاہ کر کے انڈیا کا ناطقہ بند کروائیں۔ ایسا کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔