بھارت میں قرآن کریم کی بدترین طریقے سے توہین ، پولیس نے احتجاج پر 4مسلمان مار ڈالے

پیر10اکتوبر2011

بریلی (خصوصی رپورٹ)بھارت کے علاقے اترکھنڈ میں قرآن کریم کی بدترین طریقے سے توہین، قرآنی نسخے کے ٹکڑے کرنے سے پہلے اسے مندر میں ڈالا گیا پھر ٹکڑے کر کے اوراق خنزیز کے گوشت میں ڈالے گئے اور مسجد میں پھینکے گئے۔ مسلمانوں کے احتجاج پر پولیس نے فائرنگ کر کے چار مسلمان شہید اور درجنوں زخمی کر ڈالے۔اتراکھنڈ کے اودھم پور ضلع میں واقع رودرپور میں اتوار کو حالات نے اس وقت سنگین رخ اختیار کر لیا جب قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے وحشیانہ فائرنگ کر دی۔ فائرنگ میں تین افراد شہید اور 13 زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے 2 کی حالت انتہائی نازک ہے جبکہ ایک زخمی بعد میں دم توڑ گیا۔ واقع کے مطابق رودرپور میں جمعہ کو صبح 10 بجے کے قریب روڈ ویز کے پاس شنی مندر میں ہندوﺅں کی جانب سے ایک روز پہلے قرآن رکھا گیا پھر اس کے ٹکڑے کر کے اس میں خنزیر کا گوشت ڈالا گیا جس کے بعد اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ اسی وقت سے جاری ہے۔ علماءکے خاموش مارچ اور انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کئے جانے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے کے سبب اتوار کو بھی مسلمانوں نے رودرپور روڈ ویز پر احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس کو محسوس ہوا کہ ہجوم بے قابو ہو رہا ہے اور اس نے مظاہرین پر وحشیانہ طور پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد ہنگامہ اور زیادہ بڑھ گیا۔ ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا جب راجستھان کے بھرت پور میں سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کی توہین کی گئی تھی۔ اتوار کو مظاہرے کے وقت پولیس کی بھاری جمعیت بھی موجود تھی جس نے بھیڑ کو بے قابو ہوتا دیکھ کر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے بعد کرفیو لگا دیا گیا لیکن کرفیو میں حیران کن پہلو یہ تھا کہ کرفیو صرف مسلمانوں کے لئے اور مسلم محلوں میں ہے۔ ہندو محلوں اور علاقوں میں لوگوں کو آزادی ہے جس کی وجہ سے پولیس کی سرپرستی میں شرپسند ہندو عناصر لوٹ مار اور آتش زنی کی وارداتیں دھڑ لے سے کر رہے ہیں۔ مسلمان محلوں کا محاصرہ کر لیا گیا ہے اور اس وقت حالات بہت خراب ہیں۔