خاکوں والی ویب سائٹس بند کرنے کا حکم خوش آئند ہے،تحریک حرمت رسول ﷺ

بدھ21ستمبر2011

لاہور(بدھ21ستمبر2011) تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے رہنماﺅں نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والی تمام ویب سائٹس فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کرنے کے فیصلہ پر اعلیٰ عدلیہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام پر قرآن پاک کی (نعوذ بااللہ) بے حرمتی اور شان رسالت ﷺ میں گستاخیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا عدالتی احکامات کے باوجود وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے والی ویب سائٹس بند نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے پاکستانی قوم اسلامی شعائر میں گستاخیاں اور توہین آمیز خاکے شائع کرنے والی ویب سائٹس کی ہر صورت بندش چاہتی ہے ان خیالات کا اظہار تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ،حافظ عبدالغفار روپڑی،قاری زوار بہادر،ڈاکٹر فریداحمد پراچہ، قاری محمد یعقوب شیخ، مولٰنا محمد امجد خان، پیر نوبہار شاہ، علامہ علی غضنفر کراروی،پیر سیف اللہ خالد،حافظ خالد ولید، مرزا محمد ایوب بیگ، مولٰنا سیف الدین سیف،مولٰنا محمد یوسف احرار، مولانا مجیب الرحمن انقلابی ،مولٰنا محمد عاصم مخدوم و دیگر نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی قرآن پاک کی (نعوذ بااللہ) بے حرمتی اور شان رسالت ﷺ میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ فی الفور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کرے اور گستاخ ویب سائٹس کو فوری طور پر بند کیا جائے انہوں نے کہاکہ صلیبی و یہودی جان بوجھ کر ویب سائٹس پر قرآن پاک کی بے حرمتی اور نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیوں کا ارتکاب کر تے ہیں حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرے پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرکے حاصل کیاجانے والا ملک ہے یہاں گستاخ ویب سائٹس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ۔تحریک حرمت رسول ﷺ کے رہنماﺅں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر پوری پاکستانی قوم اعلیٰ عدلیہ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

ویب سائٹس پر توہین آمیز مواد بلاک کیا جائے، ہائیکورٹ

 

لاہور(بدھ21ستمبر2011) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عظمت سعید نے فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس پر توہین آمیز مواد اور خاکے کو ختم کرنے کے لئے دائر درخواست پر وفاقی حکومت کو ویب سائٹس پر موجود توہین آمیز مواد بلاک کرنا کا حکم دیتے ہوئے 6 اکتوبر تک تحریری جواب اور رپورٹ طلب کر لی ہیں ۔ گذشتہ روز ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی طرف سے جواب دینے کے لئے مہلت طلب کی تھی جس پر درخواست گذار محمد اظہر صدیق نے کہا کہ جتنی بھی ویب سائٹس ہیں ان پر اب بھی توہین آمیز مواد موجود ہے جسے بند کیا جانا چاہئیے۔ صرف گوگل یا سرچ انجن نہیں بلکہ ایسی تمام ویب سائٹس سے تمام توہین آمیز مواد ختم کیا جائے جہاں یہ مواد موجود ہے ۔ عدالت نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والی تمام ویب سائٹس کو فوری بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔