جماعةالدعوة شعبہ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے کہ امریکی سفیر کیمرون منٹر نے توہین آمیز بیان دے کر اپنی قوم کی طرف سے پوری امت مسلمہ کو گستاخانہ پیغام دیا ہے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ملک میں سفیر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے حکومت پاکستان ایسے شخص کو فی الفور نا پسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے نکلنے کے احکامات جاری کرے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ مذہبی و سیاسی جماعتیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت سبھی ادارے گستاخ امریکی سفیر کو ملک سے نکالنے کے لئے کردار ادا کریںپاکستان لاکھوں مسلمانوںکی قربانیاں دے کر حاصل کیا گیایہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ماننے والوں کا ملک ہے یہاںکسی ایسے شخص کو سفیر کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا جویہ کہہ کر اس دریدہ دہنی کا ارتکاب کرے کہ نائن الیون کے بعدجس نام میں بھی محمد آتا ہے اس کا ڈیٹا امریکی کمپیوٹرقبول نہیں کرتے عبدالرحمن مکی نے کہاکہ حکمران نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے علیحدگی اختیار کریں ، مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دیں اور ملکی و قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دی جائیں۔
امریکی سفیر نے پاکستان میں بیٹھ کر جس دریدہ دہنی کا ارتکاب کیا ہے حکومت پاکستان کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے،تحریک حرمت رسول ﷺ
بدھ11مئی2011
تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے رہنماﺅں نے امریکی سفیر کیمرون منٹرکے اس بیان پر کہ ” نائن الیون کے بعد جس نام میں بھی محمد آتا ہے اس کا ڈیٹا ہمارے کمپیوٹر قبول نہیں کرتے“شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی سفیر نے پاکستان میں بیٹھ کر جس دریدہ دہنی کا ارتکاب کیا ہے حکومت پاکستان کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور اس بات کا واضح اعلان کرنا چاہیے کہ جس ملک یا شخصیت کو اللہ کے نبی ﷺ کا نام قبول نہیں ہے وہ ہمیں بھی قبول نہیں ہے گزشتہ روز تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ، حافظ محمد عاکف سعید، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا محمد امجد خاں، قاری محمد یعقوب شیخ، علامہ زبیر احمد ظہیر، مولانا محمد شفیع جوش، مولٰنا سیف الدین سیف، قاری محمد یوسف احرار، حافظ محمد مسعود، مرزا محمد ایوب بیگ، حافظ خالد ولید، مولا نا محمد عاصم مخدوم و دیگر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ امریکی اسلام دشمنی میں اس حد تک آگے نکل گئے ہیں کہ انہیں محسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کا (نعوذ بااللہ) نام سننا گوارا نہیں ہے اور ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں امریکی ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں اور کھلے عام ڈرون حملوں کے ذریعہ بے گناہ نہتے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے علماءکرام اور دینی جماعتوں کے قائدین قوم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں اور مسلمانوں کو صلیبیوں و یہودیوں کی اسلام و مسلمانوں کے خلاف سازشوں سے آگاہ کیا جائے انہوں نے کہاکہ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ قرآن پاک کی بے حرمتی اور شان رسالت ﷺ میں گستاخیوں کے واقعات امریکی حکومت ، فوج اور ان کے مذہبی پیشواﺅں کی آشیر باد سے ہو رہے ہیں امریکی سفیر کیمرون منٹر کے توہین آمیز بیان سے یہ بات ایک بار پھر کھل کر واضح ہو گئی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکمران نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلہ میں قائم اتحاد سے باہر نکل آئیںاور ملکی و قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دیں۔