تحریک حرمت رسول ﷺ کے زیر اہتمام حافظ
محمد سعید کی زیر صدارت 20سے زائد دینی
جماعتوں کا اہم اجلاس، تحریک منظم انداز
میں آگے بڑھانے کیلئے13رکنی کمیٹی کا
اعلان، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا تحفظ حرمت
رسول ﷺ کے مسئلہ پر بھرپور کردار ادا
کرے:حافظ سعید
جمعرات 09دسمبر2010
تحریک حرمت رسول ﷺ کے زیر اہتمام حافظ محمد سعید کی زیر صدارت 20سے زائد دینی جماعتوں کا اہم اجلاس ، تحفظ حرمت رسول ﷺ کی تحریک منظم انداز میں آگے بڑھانے کیلئے13رکنی کمیٹی کا اعلان کر دیا گیا ، کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے جید علماءکرام اور دینی جماعتوں کے اہم رہنما شامل ہیں، تحریک حرمت رسول ﷺ کو گلی محلے کی سطح پر منظم کرنے کا فیصلہ، ملک بھر کی دینی جماعتیں اور تمام مکاتب فکر تحفظ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر متحد ہیں، توہین رسالت کے مسئلہ پر اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کی خاموشی افسوسناک ہے،گستاخان رسول کو امریکہ و یورپ بھجوانے کی کوششیں کرنے والے حکمران ہوش کے ناخن لیں،آسیہ مسیح کو عدالتی فیصلہ کے مطابق سزا دی جائے، توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے دینی رہنماﺅں، جید علماءکرام اور مفتیان عظام کی اجلاس کے دوران گفتگو تفصیلات کے مطابق تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے زیر انتظام توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے اور گستاخ رسول ﷺ آسیہ مسیح کی سزا معاف کرنے کی کوششوں کیخلاف ملک گیر سطح پر جاری تحریک کا جائزہ لینے کیلئے گزشتہ روز مرکز القادسیہ چوبرجی میں امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید کی زیر صدارت تحریک حرمت رسول ﷺ کا اجلاس ہوا جس میںملک بھر کی 20سے زائد قومی دینی جماعتوں کے قائدین ،جید علماءکرام، شیوخ الحدیث اور مفتیان کرام نے شرکت کی اجلاس میںاتفاق رائے سے طے پایا کہ تحفظ حرمت رسولﷺ کی تحریک کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا بلکہ علمی اور تحریکی طور پر تحریک حرمت رسول ﷺ کو مزید منظم اور مضبوط بنایا جائے گا حافظ محمد سعید کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تحریک حرمت رسول ﷺکے کنوینئرمولانا امیر حمزہ ، شیخ الحدیث مولٰنا عبدالمالک، علامہ احمد علی قصوری ، مفتی محمد خان قادری ، مولٰنا فضل الرحیم اشرفی،پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی ، علامہ راغب حسین نعیمی ، علامہ زبیر احمد ظہیر ، علامہ محمد حسین اکبر ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ،علامہ کاظم رضا نقوی، مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالرﺅف فاروقی، علامہ علی غضنفر کراروی ،قاری محمد یعقوب شیخ، قاری محمد یوسف احرار ، علامہ زاہد محمود قاسمی ، مفتی مبشر احمد ربانی ، مرزا محمد ایوب بیگ ، حافظ محمد عبداللہ ، شیخ محمد نعیم بادشاہ ، حافظ سیف اللہ منصور ، مولانا سیف اللہ خالد ، حافظ محمد مسعود، مفتی رب نواز، ، ڈاکٹر حسن مدنی، محمد عطاءاللہ صدیقی ، محمد یحییٰ مجاہد ،حافظ خالد ولیدو دیگر نے شرکت کی اجلاس کے دوران مفقہ طور پر دینی جماعتوں کے قائدین اور جید علما ءکرام پر مشتمل 13رکنی کمیٹی کا بھی اعلان کیا گیا جو تحفظ حرمت رسولﷺ کے حوالہ سے ملک بھر کے علماءکرام ، شیوخ الحدیث اور مفتیان کرام سے رابطہ کرے گی تاکہ نبی اکرمﷺ کی حرمت کے تحفظ کی اس تحریک کو مﺅثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے اجلاس کے دوران متفقہ طور پر تشکیل دی جانیوالی 13رکنی کمیٹی میں تحریک حرمت رسول ﷺ کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ، شیخ الحدیث مولٰنا عبدالمالک، مفتی محمد خان قادری،مولٰنا عبدالرﺅف فاروقی،علامہ احمد علی قصوری،علامہ زبیر احمد ظہیر، علامہ محمد حسین اکبر،ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، علامہ کاظم رضا نقوی، قاری محمد یعقوب شیخ،حافظ محمد اسعد عبید، مرزا محمد ایوب بیگ اور مولٰناقاری محمد رفیق شامل ہیںاجلاس کے دوران تشکیل دی گئی حرمت رسول ﷺ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملی مجلس شرعی کے کنوینئر مفتی محمد خان قادری کے ادارہ جامعہ اسلامیہ ٹھوکر نیاز بیگ میں 16 دسمبر کوہو گا مرکز القادسیہ میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریک حرمت رسول ﷺ کو ملک گیر سطح پر اور زیادہ منظم کرنے کی ضرورت ہے پوری مسلم امہ میں نبی اکرم ﷺ کی حرمت کے تحفظ کے مسئلہ پر سب سے زیادہ اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے یہ اسلام کا وہ مسئلہ ہے جس کے لئے ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی اپنا سب کچھ قربان کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تحفظ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر مسلمانوں کو متحد و بیدار کیا جائے علماءکرام اس سلسلہ میں قوم کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیں انہو ںنے کہا کہ تحفظ حرمت رسول ﷺ کے حوالہ سے چلائی جانیوالی تحریک کو علمی اور تحریکی سطح پر بہت زیادہ منظم اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صلیبیوں و یہودیوں کی طرف سے کی جانے والی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا تحفظ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر بھرپور کردار ادا کرے جمعیت اتحاد العلماءپاکستان کے صدر مولٰنا عبدالمالک نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اسلام پر بڑا حملہ ہے جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا توہین رسالت ایکٹ 295-Cختم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے جماعة الدعوة شعبہ دار الا فتاءکے سربراہ مفتی مبشر احمد ربانی نے اپنے مفصل خطاب میں قرآن پاک کی متعدد آیات اور احادیث رسول ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک نے کسی بھی غیر مسلم کی طرف سے نبی اکرمﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی سزا قتل مقرر کی ہے یہ پروپیگنڈہ درست نہیں کہ قرآن میں شان رسالت میں گستاخی کی سزا کا ذکر نہیں ہے ایسی باتیں کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ملی مجلس شرعی کے کنوینئر مفتی محمد خان قادری نے کہا کہ گستاخان رسول ﷺ کی سزا اسلام نے موت مقرر کی ہے اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جماعة الدعوة شعبہ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر عبدالرحمن مکی نے کہا کہ توہین رسالت کے مسئلہ پر باقاعدہ سازش اور منصوبہ بندی کے تحت شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں قرآن وحدیث میں شان رسالت میں گستاخی کرنیوالے ملعونوں کے بارے میں واضح احکامات موجودہیں تحریک حرمت رسول ﷺ پاکستان کے کنوینئر مولٰنا امیر حمزہ نے کہاکہ توہین رسالت ایکٹ کو بے اثر بنانے کے خواہش مند حکمران ملک کو انارکی کی طرف مت دھکیلیں مذہبی ، سماجی و سیاسی جماعتیں حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیارہیں مرکز اہلسنت پاکستان کے سربراہ علامہ احمد علی قصوری نے کہا کہ توہین رسالت کاجرم اتنا سنگین ہے کہ اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا علماءکرام تحفظ حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر متحد ہیںجامع اشرفیہ کے مہتمم شیخ الحدیث فضل الرحیم اشرفی نے کہا کہ پاکستانی قوم توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دے گی جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ توہین رسالت ایکٹ میں کسی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینئر نائب امیر علامہ زبیر احمد ظہیر ، علامہ محمد حسین اکبر ، جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، قاری محمد یعقوب شیخ، مرزا محمد ایوب بیگ ، قاری محمد یوسف احرار و دیگر نے کہا کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا قرآن مجید میں عبرتناک موت ہے ایک ارب ساٹھ کروڑ لوگوں کو اذیت دی جا ری ہو توصدر زرداری کو معافی کا اختیار ہر گز حاصل نہیں تعزیرات میں معافی نہیں بلکہ سزا ہے انہو ںنے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے حرمت رسول ﷺ کے مسئلہ پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے ممبران پارلیمنٹ پر واضح کر دیا جانا چاہیے کہ جو بھی اس قانون کو ختم کرنے کا حصہ بنے گا آئندہ عوام اسے ووٹ نہیں ڈالیں گے ۔