گستاخی کرنے والی خاتون کو عدالتی فیصلہ کے مطابق سزا ضرور ملنی چاہیے،تحریک حرمت رسولﷺ

جمعرات 09دسمبر2010

توہین آمیز خاکوں، توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوششوں اور آسیہ مسیح کو بیرون ملک بھجوانے کی کوششوں کے خلاف احتجاج جاری، دینی و سیاسی جماعتوں کے ملتان،فیصل آباد،راولپنڈی،مظفر آباد،پشاور ،حیدرآباد سمیت دیگر کئی شہروں میں جلسے، سیمینارز اور حرمت رسول ﷺ کانفرنسیں،توہین رسالت ایکٹ ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف بھرپور جدوجہد کا عزم،پارلیمنٹ کو توہین رسالت کی سزا ختم کرنے یا کم کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ،پاکستانی عوام توہین رسالت ایکٹ کیخلاف کسی قسم کی قانون ساز ی میں حصہ لینے والے اراکین اسمبلی کو آئندہ الیکشن میں ووٹ نہیں دینگے ، گستاخ رسول ﷺ آسیہ مسیح کو عدالتی فیصلہ کے مطابق سزا ملنی چاہیے، مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن نبی اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا،مقررین کے خطابات،تفصیلات کے مطابق دینی و سیاسی جماعتوں کے نمائندہ اتحاد تحریک حرمت رسول ﷺ کی طرف سے جمعرات کے روز بھی کئی شہروں میں جلسوں اور حرمت رسول ﷺ کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیاجماعة الدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما رانا شمشاد احمد سلفی نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے جس کسی نے بھی اللہ کے نبی ﷺ کی عزت کی اسے اللہ تعالیٰ نے عزت دی اور جس کسی نے گستاخی کی کوشش کی اس کی آخرت تو برباد ہوئی دنیا میں بھی اس کا کچھ نہیں بچا سب سے بڑا مسئلہ حرمت رسول ﷺ کا تحفظ ہے شان رسالتﷺ میں گستاخی کرنے والی خاتون کو عدالتی فیصلہ کے مطابق سزا ضرور ملنی چاہیے تحریک حرمت رسول ﷺ کے رہنماﺅںمولٰنا احمد سعید ملتانی، مولٰنا بشیر احمد خاکی، مولٰنا محمد اشفاق، و دیگر نے مختلف شہروں و علاقوں میں تحفظ حرمت رسول ﷺ کے حوالہ سے منعقدہ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صلیبی و یہودی منظم سازشوں کے تحت جان بوجھ کر قرآن پاک کی بے حرمتی، نبی مکرم ﷺ کی شان میں گستاخیاں اور اسلامی شعائرکی توہین کر رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ علماءکرام امت مسلمہ کی رہنمائی کریں اور انہیں کفار کی گستاخیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد و بیدار کریں انہوں نے کہاکہ حرمت رسول ﷺ کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا تحریک حرمت رسول ﷺ کے رہنما ﺅںمولانا آصف بھٹی،مولٰنا خالد سیف الاسلام، حافظ عبداللہ حنیفنے کہا کہ توہین رسالت کے مجرم کو سزا ئے موت کا حکم اللہ نے دیا ہے، کوئی ادارہ یا شخص اس سزاکو ختم یا کم نہیں کر سکتا، ہم اقلیتوں کے محافظ ہیں لیکن نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس اور اسلام پر حملے برداشت نہیں کر سکتے انہوں نے کہاکہ شریعت میں صدر مملکت کو توہین رسالت کے مجرموں کی سزا معاف کرنے کا کوئی شرعی و قانونی اختیار حاصل نہیں ہے پارلیمنٹ ہو یا کوئی اور ادارہ کسی کو قطعی طور پر یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین میں تبدیلی اور اسلامی شریعت کی طرف سے مقرر کردہ سزاﺅں کو ختم یا کم کرتا پھرے ایسا کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔