سلام اس پر جو
(الہامی) ہدایت
کا پیروکاربن
جائے
آپ کا ملک فرانس
ایسا ملک ہے جو
یورپ کے ملکوں
میں ایک ممتاز
مقام رکھتا ہے ۔
چھوٹی سپر پاور
بھی کہلاتا ہے ۔
آپ لوگوں نے سب
سے پہلے یورپ میں
انقلاب بپا کیا ۔
تاریخ میں انقلاب
فرانس کو ایک
نمایاں مقام حاصل
ہے ۔ یہ انقلاب
متعصب پادریوں کے
خلاف تھا اور
پادریوں کے
پیروکار بادشاہ
کے خلاف تھا ۔ اس
انقلاب کے بعد آپ
کا ملک حقوق
انسانی کا
علمبردار بن کر
اٹھا .... مگر
نائن الیون کے
بعد آپ کا ملک
بالکل الٹی جانب
چل کھڑ اہوا،
سارے یورپ میں سے
ایک انتہائی
متعصب ملک بن کر
دنیا کے سامنے آ
ریا ہے ۔
مثال کے طور پر
آپ لوگ اس قدر
انتہا پسند اور
متشد د ہو چکے
ہیں کہ ڈیڑھ ارب
کے قریب مسلمانوں
کی محبوب ترین
ہستی حضرت محمد
کریم ﷺ کے خاکے
بنانے سے باز
نہیں آرہے....
پوری دنیا کے
مسلمان احتجاج کر
رہے ہیں کئی ملک
باز آگئے کئی ایک
نے معافی مانگی
مگر آپ لوگ اب
بھی وہی رویہ
متواتر اختیار
کیے ہوئے ہو۔
ابھی
2نومبر2011ءکو آپ
کے ایک اخبار نے
توہین آمیز خاکے
شائع کر دیئے ۔
یہ اخبار ہفت
روزہ ہے اس کے
ایڈیٹر کا نام”
چارلی ہیڈو “ہے۔
اس نے اپنے نام
پر ہی اپنے ہفت
روزہ کا نام رکھا
ہوا ہے ۔ خاکوں
کی اشاعت کے بعد
دسمبر کے رواں
مہینے میںمنگل کے
روز اس اخبار کے
دفتر میں ایک بم
پھینک دیا گیا ۔
اس کا نتیجہ یہ
ہوا کہ دفتراور
اس میں موجود ہر
شئے جل کر خاک
اور راکھ بن گئی
.... مسٹر چارلی
ہیڈو نے بم
پھینکنے والے نا
معلوم لوگوں کے
خلاف پرچہ درج
کروادیا ہے اور
کہا ہے کہ اب یہ
اخبار کئی دن تک
شائع نہیں ہو سکے
گا ۔
مسٹر وزیر اعظم
!آپ نے اپنے وزیر
داخلہ کلاڈجیسٹ
کو حکم دیا کہ
حملہ آوروں کو
فوراً گرفتار کیا
جائے اور ساتھ ہی
پرانی اور گھسی
پٹی اس بات کو
دہرایا ہے کہ !”
آزادی تحریر
وتقریر جمہوریت
کا بنیادی حق ہے
، صحافت کی آزادی
پر کسی بھی حملہ
کی پرزور مذمت کی
جانی چاہیے اس پر
تشدد حرکت کو کسی
بھی طرح منصفانہ
قرار نہیں دیا جا
سکتا “
میں آپ لوگوں سے
پوچھتا ہوں کیا
توہین کرنا
جمہوریت ہے
....؟کیا پاکباز
اور مقدس ہستی کی
توہین کو تحریر
وتقریر کی آزادی
کہیں گے ....؟
اگر یہ آزادی ہے
تو آپ کے یورپ
میں نہیں ہے ۔
برطانیہ میں نہیں
ہے۔ خود فرانس
میں نہیں ہے ۔
وہاں توہین آمیزی
کا قانون موجود
ہے ۔ اس کی سزا
موجود ہے ۔ نہیں
ہے تو ہم
مسلمانوں کے بارے
میں نہیں ہے۔
کیا اسی کا نام
آزادی رہ گیا ہے
.... جھوٹ کیوں
بولتے ہو، منافقت
کیوں اختیار کرتے
ہو؟ سیدھی طرح
کیوں نہیں کہتے
ہو کہ ہمیں
افغانستان میں
شکست ہوگئی ہے
وہاں سپر پاور
اور چھوٹی سپر
پاوریں سب ذلیل
ہوگئی ہیں ....
اسی ذلت کا نتیجہ
یہ نکلا ہے کہ
20دسمبر 2011ءکو
آپ کے سرپرست
اعلیٰ امریکہ کے
نائب صدر مسٹر
جوبائیڈن نے کہہ
دیا ہے کہ !
”طالبان ہمارے
دشمن نہیں ہم ان
سے معاہدے کے لیے
تیار ہیں “دیکھئے
یہاں بھی تمہارا
لیڈر امریکہ جھوٹ
بول رہا ہے....
میں پوچھتا ہوں
طالبان دشمن نہیں
تو دس سال تک ان
سے لڑتے کیوں رہے
ہو ۔ کیا بمباری
دوستوں پر کی
جاتی ہے ۔ کیا
ٹینک اور فوجیں
اپنے پیاروں کو
قتل کرنے کے لیے
بھیجی جاتی ہیں
....؟ کتنا بڑا
جھوٹ ہے ....
ہاںہاں ! اسی طرح
کا جھوٹ ہے جس
طرح آپ نے جھوٹ
بولا ہے خاکے
بنانے کو تحریر
وتقریر اور
جمہوریت کی آزادی
کا نام دیا ہے ۔
میں سوال کرتا
ہوں کیا تمہارے
ملک میں مسلمان
عورت کے سکارف
اوڑھنے پر جو
پابندی عائد کر
دی گئی ہے یہ
عورتوں کے حقوق
کے خلاف نہیں ہے
؟ کیا یہ ایک
انسان کی پرائیوٹ
زندگی میںمداخلت
نہیں ؟ .... ایک
عورت سر پر سکارف
پہن کر بازار
جاتی ہے تو جناب
والا! یہ تو اس
کا ذاتی مسئلہ ہے
اس سے آپ لوگوں
کا کیا نقصان
ہوتا ہے ؟ بات
یہیں تک محدود
رہتی تو پھر بھی
کوئی بات تھی، آپ
کے لوگوں نے تو
سکارف پہننے والی
عورتوں پر تھوکا
۔ تمہاری پولیس
نے(باقی صفحہ
3بقیہ نمبر44)
سر بازار برقعہ
پوش عورتوں کو
ماراپیٹا یہاں تک
کہ بھری عدالت
میں ایک مسلمان
عورت کو قتل تک
کر دیا گیا ۔
ہاں ہاں ! تم اس
سب کے باوجود
پرامن ہو ....
شراتیں کرنے والے
۔ ڈیڑھ ارب
مسلمانوں کا دل
دکھانے والے
صحافی ہیں۔
دانشور ہیں بڑے
سمجھ دار ہیں
.... لعنت ایسے
جرنلزم پر ۔ پھٹ
کار ایسی دانشوری
پر ۔ فٹے منہ
ایسی سمجھداری پر
پھر ہزار لعنت
منافقانہ بیانات
پر ۔
جی ہاں ! مسٹر
وزیر اعظم ....
حملہ آور دہشت
گردہیں ان کو
ڈھونڈو.... ان کو
تلاش کرو ....
اپنے نام نہاد
دانشوروںکو مت
روکنا .... بلکہ
انہیں ایسی
حرکتوں پر اپنے
بیانات کے ذریعہ
اور انگبخت کرتے
چلے جاتا .... اس
دنیا میں امن ہو
گا ۔ بھائی چارہ
بڑے گا....؟ دہشت
گردی ختم ہو گی ۔
اے دہشت گردو! یہ
ہے تمہاری سوچ
....کھبی سوچو تو
سہی کس قدر خلاف
انسانیت ہے یہ
سوچ ۔ انسانیت کی
دشمن ہے یہ سوچ ۔
مسٹر وزیراعظم !
فرانس میں
مسلمانوں کی
تعداد سارے یورپ
کے ملکوں کی نسبت
زیادہ ہے ۔
عیسائیوں کے بعد
مسلمان دوسرے
نمبر پر ہیں آپ
نے خاکے بنانے
والے جس شخص کا
دفاع کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ
آپ نے دفاع کرکے
اپنے ملک کے
مسلمانوں کے
جذبات ہی کا نہیں
انسانیت کا خون
کیا ہے ۔ شرافت
کو تار تار کر
دیا ہے ۔ عزت
وآبروکو بے آبرو
کر دیا ہے ....
میں آپ کو اپنے
پیارے رسولﷺ کی
سیرت کی کتاب
(MANNERISMS OF
MY SIRE) بھیج
رہا ہوں ۔ اس
عظیم ہستی پرلکھی
ہوئی کتاب جن کی
عزت وآبرو پر
ہمارے ماں باپ ۔
بیوی اور اولاد
جان اور مال سب
قربان ہے .... یہ
کتاب پڑھیں اور
پھر سوچیں کہ آپ
لوگ کس ہستی کے
بارے میں ایسی
حرکتیں کررہے ہو
۔ یاد رکھو! تم
باز نہ آئے تو یہ
دنیا پر امن نہیں
رہ سکتی اس دنیا
کو امن وامان کا
گہوارہ بنائیں گے
تو حضرت
محمدکریمﷺ کے
ماننے والے ہی
بنائیں گے ( ان
شاءاللہ )
چارلی ہیڈو اخبار
کی ویب سائٹ کو
ہیک کر لیا گیا
وہاں ہمارے
حضورحضرت محمد
کریم ﷺ کے ماننے
والوں نے کعبہ کی
تصویر بنادی اور
اوپر لکھ دیا ”
لاالہ الااللہ
محمد رسول اللہ “
کعبہ امن کی جگہ
ہے اور حضرت محمد
کریم ﷺ نے مکہ پر
غلبہ پاکر امن کو
قائم کردیا ....
اپنے دشمنوں کو
معاف کردیا لیکن
چونکہ نبی کی
توہین انتہا درجے
کی کمینی حرکت ہے
.... ایسے کمینے
لوگوں کو معاف
نہیں کیا گیا ۔
ویب سائٹ پر غلبہ
پاکر حضرت محمد
کریم ﷺ کے
جانثاروں نے اپنا
پیغام دے دیا
.... ویب سائٹ کو
امن کا گہوارہ
بنا دیا ۔ توحید
کا علمبردار
بنادیا .... میں
سمجھتا ہوں اور
مشورہ دیتا ہوں
کہ اس پیغام کو
سمجھاجائے ۔
کمینی حرکتوں کو
چھوڑا جائے ....
تاکہ دنیا امن
وسکون کا گہوارہ
رہے ۔ تمہاری قوم
کے لوگ تشدد اور
انتہا پسندی کا
راستہ چھوڑ دیں ۔
واپس تاریک دور
میں نہ جائیں ۔
یہ آپ کی ذمہ
داری ہے میں آپ
کو ذمہ داری کا
احساس دلارہا ہوں
۔ جواب کا منتظر
رہوں گا ۔